4 اپریل 2012 - 19:30

امریکہ کےورلڈ ٹریڈ سینٹر پر ہونے والے حملے کے دس برس بعد بالاخر امریکہ نے اس واقعے میں ملوث مشتبہ افراد کے خلاف مقدمہ چلانے کا فیصلہ کر ہی لیا جن کے بارے میں باور کیا جاتا ہے کہ انہوں نے گیارہ ستمبر کے حملوں کی منصوبہ بندی کی تھی۔

ابنا: ذرائع ابلاغ کا کہنا ہے کہ امریکہ نے، خالد شیخ محمد سمیت القاعدہ کے ان چار ارکان ، جو اس وقت امریکہ کی قید میں ہیں اورگیارہ ستمبر کے حملے میں ملوث اور تقریبا تین ہزار افراد کو موت کے گھاٹ اتار دیا تھا،پر مقدمہ چلانے کافیصلہ کیا ہے۔امریکہ کے وزیر جنگ پینٹاگون نے کہا ہے کہ اگر ان پانچوں افراد پر لگایا گیا الزام ثابت ہو گیا تو انھیں موت کی سزادی جا سکتی ہے۔

حکومت امریکہ کے دعوے کےمطابق نیو یارک اور واشنگٹن میں ہونے والے حملوں میں القاعدہ گروہ ملوث تھااور خالد شیخ محمد اس منصوبہ بندی کا ماسٹر مائنڈ تھا القاعدہ کے رہنماؤں منجملہ اسامہ بن لادن اکثر کہا کرتا تھا کہ اس کی تنظیم نے گیارہ ستمبر کو حملے کئے تھے ایسےحالات میں امریکہ کے اس تاریخی حملے میں تنہا القاعدہ کے ہونے کے بارے میں شک و تردید کا اظہار کیا جا رہا ہے جب کہ بعض ماہرین کا خیال ہے کہ القاعدہ تنظیم اپنے بل بوتے پرکئی طیاروں کو اغوا کرکے ان سے نیو یارک اور واشنگٹن پر حملے نہیں کرسکتی تھی بنابر ایں ان ماہرین کا خیال ہے کہ القاعدہ گروہ کے دہشتگردوں پر مقدمہ چلانے کے ساتھ ساتھ امریکہ کے سیاسی اور انٹیلیجنس اداروں کے عناصر کی بھی شناخت ہونی چاہیئے ۔ جب کہ اس گروہ کے علاوہ، ایک دوسرے گروہ نے اس واقعے میں امریکیوں کی شمولیت سے انکار کیا ہے مگر اس بات کے قائل ہیں کہ امریکی حکام نے جان بوجھ کرگیارہ ستمبر کے حملے کی روک تھام کے لئے کوئی سخت اقدام نہیں کیا تھا تاکہ اپنی جنگی پالیسیوں کی قانونی توجیہ کرسکیں اس گروہ کے نظریہ کے مطابق امریکہ کے اعلی حکام بھی گیارہ ستمبر کے حملے میں تین ہزار لوگو ں کی موت کے جرم میں بالواسطہ شریک ہیں۔

البتہ اس بحث کے علاوہ یہ کہ گیارہ ستمبر کا واقعہ کس طرح رونما ہوا تھااور اس واقعے کے دس سال گزرجانے کے بعد ان پر مقدمہ چلائے جانے کا معاملہ تعجب خیز ہے امریکہ کی اس وقت کی حکومت نے نیو یارک کے ورلڈ ٹریڈ سینٹر کے حملے میں مارے جانے والوں کا بدلہ لینے کے لئے اس واقعے کے ایک ماہ بعد ہی افغانستان میں اپنے فوجیں تعینات کر دی تھیں اور پھر عراق کی سرزمین پر قبضہ کر لیا تھا اور ان دونوں جنگوں میں دس لاکھ سے زائد بے گناہ افراد مارے گئے تھے اس کے باوجود القاعدہ کےقید پانچ ارکان کی سزا کا معاملہ دس سال تک چلتا رہا۔

امریکہ کے حکام کا دعوی ہے کہ اس مسلے میں اس لئے تاخیر ہوئی کہ آخر انھیں کس طرح کی سزادی جائے اس گروہ کاخیال ہے کہ امریکی حکام، مختلف اٹھائے جانے والے موضوعات جیسے امریکہ میں القاعدہ گروہ کی سرگرمیوں ، دہشتگردوں کی شناخت و پہچان میں امریکی خفیہ ایجنسیوں کی ناتوانیوں نیزملزمین پر مقدمہ چلا‎ئے جانے کے سلسلے میں ریاض اور واشنگٹن کے کام کے درمیان پائے جانے والےگہرے تعلقات پر تشویش ہے۔ اسی بنا پر طے یہ کیا ہے کہ ان افراد کو فوجی عدالت میں سزا دی جائے تاکہ رائے عامہ گیارہ ستمبر کے اصل حقائق سے باخبر نہ ہو سکیں۔

 ....... /169